جمعرات 8 اکتوبر 2026 - 19:14
ملک ہندوستان میں ایک ایک کرکے بند ہوتے مدارس؛ 252 مدارس بند، مزید سینکڑوں نشانے پر

حوزہ/ مغربی بنگال میں 252 غیر منظور شدہ مدارس کی بندش، تقریباً 100 کو شوکاز نوٹس؛ کم طلبہ اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث مزید 250 مدارس بھی مرحلہ وار بندش کی زد میں، دیگر ریاستوں میں بھی مدرسہ نظام حکومتی جانچ اور نئے ضوابط کے دائرے میں ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کولکاتا/ ملکِ ہندوستان میں مدارس کے حوالے سے حکومتی نگرانی اور انتظامی کارروائی کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ مغربی بنگال میں 252 غیر منظور شدہ مدارس کو بند کرنے کے احکامات، تقریباً 100 مدارس کو شوکاز نوٹس اور کم طلبہ و ناکافی بنیادی ڈھانچے کے باعث مزید تقریباً 250 مدارس کو مرحلہ وار بند کرنے کی کارروائی نے مدرسہ نظام کے مستقبل اور ریاستی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں مدارس کے سروے اور جانچ کے بعد یہ کارروائی سامنے آئی ہے۔ حکام نے مدارس کی قانونی حیثیت، منظوری، بنیادی ڈھانچے، طلبہ کی تعداد اور دیگر انتظامی تقاضوں کا جائزہ لیا، جس کے بعد بعض اداروں کو بند کرنے جبکہ بعض کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

مغربی بنگال میں 252 مدارس بند کرنے کا حکم

رپورٹس کے مطابق، مغربی بنگال میں 252 غیر منظور شدہ مدارس کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 100 دیگر مدارس کو شوکاز نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

حکومتی حکام کے مطابق کارروائی کا بنیادی سبب ان اداروں کا مقررہ قانونی اور انتظامی تقاضوں پر پورا نہ اترنا اور بعض مدارس میں بنیادی تعلیمی سہولیات کا ناکافی ہونا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جن مدارس کو باقاعدہ منظوری حاصل ہے اور جو مقررہ ضوابط کے مطابق کام کر رہے ہیں، انہیں بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 2,132 مدارس کو منظوری حاصل ہے، جبکہ تقریباً 2,396 مدارس غیر منظور شدہ یا غیر تسلیم شدہ حیثیت میں پائے گئے ہیں۔ تاہم ان تمام اداروں کے خلاف ایک جیسی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ ان کی قانونی اور انتظامی حیثیت کے مطابق مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید 250 مدارس بھی مرحلہ وار بندش کی زد میں

مغربی بنگال میں مدارس سے متعلق کارروائی صرف غیر منظور شدہ اداروں تک محدود نہیں ہے۔

رپورٹس کے مطابق ریاستی کابینہ نے تقریباً 250 منظور شدہ نجی مدارس کو بھی مرحلہ وار بند کرنے کی اصولی منظوری دی ہے۔ ان مدارس میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم اور بعض جگہ بنیادی تعلیمی سہولیات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسے اداروں کو جاری رکھنا، جہاں طلبہ کی تعداد بہت کم ہو اور بنیادی سہولیات دستیاب نہ ہوں، تعلیمی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں مغربی بنگال میں مدارس کے حوالے سے موجودہ کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے؛ ایک طرف غیر منظور شدہ مدارس بند کیے جا رہے ہیں، دوسری جانب متعدد اداروں کو شوکاز نوٹس دیے گئے ہیں، جبکہ کم طلبہ اور ناکافی بنیادی ڈھانچے والے بعض منظور شدہ مدارس بھی مستقبل میں بند کیے جانے کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

ریاست میں مدرسہ نظام کا وسیع پس منظر

مغربی بنگال میں مدارس کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ریاست میں ایک بڑی تعداد میں مسلم طلبہ دینی و عمومی تعلیم کے مختلف نظاموں سے وابستہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے مدارس کے حوالے سے حالیہ کارروائی کو بنیادی طور پر رجسٹریشن، منظوری، تعلیمی معیار، بنیادی ڈھانچے اور انتظامی ضوابط سے جوڑا جا رہا ہے۔

تاہم مدرسہ منتظمین اور مسلم سماجی حلقوں میں اس صورتِ حال کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ادارے میں قانونی یا انتظامی خامی موجود ہے تو اسے دور کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور مدارس کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحی اقدامات کیے جانے چاہییں۔

اترکھنڈ میں بھی مدارس کے نظام میں تبدیلی

مدارس کے حوالے سے اسی نوعیت کی انتظامی تبدیلی ملک کی شمالی ریاست اترکھنڈ میں بھی دیکھی گئی ہے۔

ریاستی محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق سابقہ ریکارڈ میں شامل 452 مدارس میں سے 179 اب فعال نہیں ہیں، جبکہ بعض مدارس کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی کی بنیاد پر کارروائی بھی کی گئی ہے۔

اترکھنڈ میں مدارس کی منظوری اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے نیا انتظامی ڈھانچہ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت مدارس کو مقررہ معیار اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد منظوری دی جا رہی ہے۔

ریاستی حکام کا مؤقف ہے کہ غیر منظور شدہ اداروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ان مدارس کو بھی منظوری کا موقع دیا جا رہا ہے جو مقررہ شرائط پوری کرتے ہیں۔

یوں اترکھنڈ کی صورتِ حال میں بھی مدرسہ نظام کی مکمل بندش کے بجائے ایک نئے قانونی اور انتظامی فریم ورک کی طرف منتقلی کا پہلو نمایاں ہے۔

آسام میں سرکاری مدارس کے نظام میں بنیادی تبدیلی

ملک کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مدارس کے حوالے سے گزشتہ چند برسوں کے دوران اس سے بھی بڑی انتظامی تبدیلی سامنے آ چکی ہے۔

آسام حکومت نے سرکاری مدارس کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے سرکاری مدارس کو عمومی تعلیمی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں ریاست کے متعدد سرکاری مدارس کا نام تبدیل کرکے انہیں عمومی اسکولوں کے نظام کا حصہ بنایا گیا۔

حکومت نے اس اقدام کو عمومی اور جدید تعلیم کے فروغ سے جوڑا، جبکہ مدرسہ نظام سے وابستہ حلقوں نے اس پر مختلف نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا۔

تاہم یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ آسام میں سرکاری مدارس کے نظام میں تبدیلی کا مطلب ریاست میں موجود تمام نجی مدارس کی بندش نہیں تھا۔ نجی مدارس کو مختلف قوانین اور ضوابط کے تحت کام کرنے کی اجازت برقرار رہی۔

اتر پردیش میں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا

ملک ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں مدارس سے متعلق قانونی بحث سپریم کورٹ آف انڈیا تک بھی پہنچ چکی ہے۔

اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004 کے حوالے سے الہ آباد ہائی کورٹ نے مارچ 2024 میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

نومبر 2024 میں سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے مدرسہ ایکٹ کی بنیادی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا، تاہم بعض اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں سے متعلق دفعات کو متعلقہ مرکزی قانون سے متصادم قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاست کو مدارس میں تعلیمی معیار اور انتظامی امور کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

یہ فیصلہ ہندوستان میں مدارس کے مستقبل سے متعلق قانونی بحث میں ایک اہم حوالہ بن چکا ہے۔

مدرسوں کے سامنے اب صرف بندش نہیں، بقا اور معیار کا سوال

مختلف ریاستوں کی صورتِ حال کو سامنے رکھا جائے تو ہندوستان میں مدارس کے حوالے سے بحث اب صرف اس سوال تک محدود نہیں رہی کہ کوئی مدرسہ کھلا رہے گا یا بند ہوگا۔

رجسٹریشن، قانونی منظوری، زمین اور عمارت کے دستاویزات، بنیادی سہولیات، اساتذہ کی اہلیت، طلبہ کی تعداد، نصاب، تعلیمی نتائج، مالی شفافیت اور انتظامی نظام بھی مدارس کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنے لگے ہیں۔

ایک ایسا مدرسہ جو طویل عرصے سے قائم ہو، لیکن اس کی قانونی دستاویزات مکمل نہ ہوں، بنیادی سہولیات کمزور ہوں یا طلبہ کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہو، وہ مستقبل میں حکومتی جانچ کے دوران مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی ادارے کے اساتذہ ریٹائر ہوتے جائیں اور ان کی جگہ نئی تقرری نہ ہو تو بظاہر قائم مدرسہ بتدریج تعلیمی کمزوری کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ کی تعداد کم ہونے، والدین کے اعتماد میں کمی اور ادارے کی مالی مشکلات جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

مدارس کے مستقبل کے حوالے سے نئی حکمتِ عملی کی ضرورت

موجودہ صورتِ حال نے ہندوستان میں مدارس کے منتظمین اور مسلم تعلیمی حلقوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے کہ موجودہ اداروں کو کس طرح قانونی، تعلیمی اور انتظامی اعتبار سے زیادہ مضبوط بنایا جائے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق مدارس کے لیے صرف نئے ادارے قائم کرنا کافی نہیں بلکہ پہلے سے موجود اداروں کی قانونی حیثیت، بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی معیار اور مالی نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔

مدارس کے منتظمین کے لیے یہ بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے کہ اداروں کے تمام قانونی کاغذات، زمین و عمارت کے ریکارڈ، رجسٹریشن اور دیگر متعلقہ دستاویزات مکمل اور محفوظ ہوں تاکہ مستقبل میں کسی بھی سرکاری جانچ کے دوران ادارے کی قانونی حیثیت واضح طور پر ثابت کی جا سکے۔

اسی کے ساتھ دینی تعلیم کے ساتھ جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، زبانوں اور دیگر عصری مضامین کی تعلیم کو مدارس کے تعلیمی نظام کا حصہ بنانے پر بھی ہندوستان میں بحث جاری ہے۔

کیا ہندوستان میں مدارس کا نظام تبدیل ہو رہا ہے؟

مغربی بنگال، اترکھنڈ، آسام اور اتر پردیش کی مختلف صورتِ حال کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مدارس اب بڑھتی ہوئی قانونی اور انتظامی نگرانی کے دائرے میں ہیں۔

تاہم ہر ریاست میں حکومتی پالیسی یکساں نہیں ہے۔ کہیں غیر منظور شدہ مدارس کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے، کہیں منظوری کے لیے نیا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، کہیں سرکاری مدارس کو عمومی اسکولوں میں تبدیل کیا گیا ہے اور کہیں مدرسہ قوانین کے حوالے سے معاملہ عدالتوں تک پہنچا ہے۔

مغربی بنگال میں حالیہ کارروائی اس سلسلے کی ایک تازہ مثال ہے، جہاں 252 مدارس کے خلاف بندش کے احکامات، تقریباً 100 مدارس کو شوکاز نوٹس اور مزید تقریباً 250 منظور شدہ نجی مدارس کو کم طلبہ اور ناکافی بنیادی ڈھانچے کی بنیاد پر مرحلہ وار بند کرنے کی پالیسی سامنے آئی ہے۔

یہ صورتِ حال ہندوستان میں مدرسہ تعلیم کے مستقبل کے حوالے سے ایک وسیع تر سوال کو جنم دیتی ہے کہ آنے والے برسوں میں دینی تعلیمی ادارے کس قانونی، انتظامی اور تعلیمی ڈھانچے کے تحت کام کریں گے۔

فی الحال ہندوستان کے مختلف حصوں میں مدارس سے متعلق کارروائیاں جاری ہیں اور کئی ادارے حکومتی جانچ اور منظوری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ آنے والے عرصے میں یہ واضح ہوگا کہ زیرِ کارروائی مدارس میں سے کتنے ادارے قانونی و انتظامی تقاضے پورے کرکے اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں اور کتنے ادارے بندش یا عمومی تعلیمی نظام میں انضمام کی طرف جاتے ہیں۔

یوں ہندوستان میں مدارس کے حوالے سے موجودہ صورتِ حال کسی ایک ریاست یا چند اداروں تک محدود معاملہ نہیں رہی، بلکہ یہ قانونی حیثیت، تعلیمی معیار، انتظامی اصلاحات اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے مستقبل سے جڑا ایک وسیع تر موضوع بن چکا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha